Monday, 26 October 2015

مدتِ دنیا

1 comments

دیگر اقوام کے خیالات(تاریخ طبری سے ماخوذ)
یہود:
یہود نے دعویٰ کیا تھا کہ آدم ؑ سے لے کر ہجرت نبویﷺ تک کل مدت دنیا جو ان کے نزدیک ثابت اور موجودہ نسخہ تورات کے موافق ہے وہ چار ہزار چھ سو بیالیس سال ہے اور یہود اسی کے موافق ایک ایک آدمی کی ولادت اور ایک ایک نبی کی بعثت اور ان کی وفات کا تذکرہ کرتے ہیں۔
نصاریٰ:
اس کے برعکس یونان کے نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ یہود اپنے مذکورہ قول اور دعویٰ میں بالکل جھوٹے ہیں۔ بلکہ تخلیق آدم سے ہجرت نبویﷺ تک کل مدت دنیا کے بارے میں صیح قول جو تورات کے موافق ہے وہ پانچ ہزار نو سو بانوے سال ہےاور نصاریٰ اسی کے موافق ہر نبی اور بادشاہ کا زمانہ اور ولادت و وفات وغیرہ کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔ ان یہود نے حضرت عیسیٰؑ کا زمانہ نبوت اور نصاریٰ کی تاریخ جو ولادت عیسیٰؑ سے شروع ہوتی ہے۔ اس کو کالعدم کر کے مذکورہ بالا قول اختیار کیا ہے۔حالانکہ حضرت عیسیٰ کے حالات ، صفات اور بعثت کا وقت وغیرہ سب کچھ تورات میں لکھاہوا ہے۔لہٰذا ان کا انکار کرنا کذب و خیانت کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس شخصیت کے حالات و صفات اور ولادت  و بعثت تورات میں مذکور ہیں جن کو نصاریٰ حضرت عیسٰیؑ قرار دیتے ہیں یہود کے نظریے کے موافق وہ ابھی تک آئے ہی نہیں اور وہ ان نکی ولادت و بعثت کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ طبری فرماتے ہیں کہ یہود جس شخص کا انتظار کر رہے ہیں اور بزعم خویش دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی صفات تورات میں مذکور ہیں وہ درحقیقت دجال لعین ہےجس کی صفات نبی کریمﷺ نے اس امت کے لئے بیان فرمائیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کے اکثر متبعین یہود ہوں گے پس ۔
مجوس:
مجوس کا کہنا ہے کہ جیومرت بادشاہ سے لے کر ہجرت نبویﷺ تک کل مدت تیس ہزار ایک سو انتالیس سال ہے لیکن وہ اس بادشاہ کا کوئی نسب نامہ ذکر نہیں کرتے کہ جس سے اس کے ماقبل پر روشنی پڑے بلکہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جیومرت ہی ابوالبشر آدمؑ ہیں۔
اہل فارس:
علامہ طبری فرماتے ہیں کہ "اہل تاریخ کے جیومرت نامی بادشاہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: (ا) بعض تواسی کے قائل ہیں جو کہ مجوس نے کہا ۔ (2) بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں حام بن یافث بن نوحؑ ہیں ۔ انہوں نے حضرت نوحؑ کی بہت خدمت گزاری کی اور تا دمِ آخر ان کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کو سعادت سمجھا سو حضرت نوحؑ نے ان کے لئے طویل حیات، روئے زمین کی بادشاہت ، دشمنوں کے خلاف آسمانی مدد کی دعا فرمائی اور یہ بھی کہ ان کی اولاد میں یہ سلسلہ دائمی طور پر جاری رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی، اور جیومرت کو روئے زمین کی بادشاہت ملی اور بادشاہت ملنے کے بعد ان کو آدم کہا جانے لگا۔ اور یہ ہی ابوالفرس (یعنی اہل فارس کے جدامجد) ہیں۔ ان کی اولاد میں بھی نسل در نسل یہ بادشاہت چلی۔ یہاں تک کہ مسلمان شاہ فارس کے شہروں میں داخل ہوئے اور اہل اسلام کو ان پرغلبہ حاصل ہوا تو حکومت و بادشاہت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ 

1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔