(تاریخ طبری
سے منقول)
نوحؑ کس قو م کی طرف مبعوث کئے گئے؟ اس میں
اختلاف ہے۔ بعض علماء سابقین کا قول ہے کہ
جب اولاد آدم فواحش و منکرات، شراب نوشی، شہوت پرستی، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
اور سر کشی کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف نوحؑ کومبعوث کیا۔ان میں
سے بعض کا قول ہے کہ یہ بیوراسپ بادشاہ کا زمانہ تھااورنوح کو اسی کے پیروکاروں کی
طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ بیوراسپ کا تفصیلی ذکر ایک الگ مضمون میں ہم کریں گے۔
انشاءاللہ۔
قرآنِ حکیم
فرقان حمید سے ہمیں پتہ چلتا ہےکہ وہ لوگ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور ان کے
بارے میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
ترجمہ:
"نوحؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میرا کہنا نہیں مانا اور
انہوں نے ایسے لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے نقصان میں اضافہ
کیااورجنہوں نے میرےخلاف بڑی فریب آزمائش کی باتیں کیں اور جنہوں نےانکی پیروی
کرنے والوں سےکہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگزنہ چھوڑنااور نہ ہی ان کو رسوا
کرنااور ود'سواع اور یغوث کونہ چھوڑنااور نہ یعوق اور نہ نسر کو چھوڑنا اور یہ
واقعہ یہ ہے کہ ان ذی اقتدارلوگوں نے بہتوں کوگمراہ کیا"
بعثت کے وقت
نوحؑ کی عمر:
پھر اللہ
تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف نوحؑ کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ
تعالیٰ کی طرف بلائیں اور ان احکامات کی پیروی کاحکم دیں جو آدم،شیث اور اخنوح
(ادریسؑ) کے صحیفوں میں نازل ہوئے تھے۔ جس وقت نوحؑ کو نبوت سے نوازا گیاتھا اس
وقت ان کی عمر پچاس برس تھی۔
عون بن
ابی شذاز کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ نبوت عطا ہونے کے وقت ان کی عمر ساڑھے تین سو
برس تھی اور ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اور عذابِ الٰہی
کے بعد ساڑھے تین سو برس زندہ رہے۔
نوحؑ کا اپنی
قوم کے لئے بددعا:
ابو جعفر
سے مروی ہے کہ نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اعلانیہ اور پوشیدہ اللہ
تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلایا،لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی یہاں تک کہ تین سو
برس بیت گئے چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو نوحؑ نے
اپنی قوم کے لئے بد دعاکی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نوح کو درخت لگانےاور چالیس سال بعد
انہیں کاٹنے اور اس سے کشتی بنانے کا کہا۔ قرآنِ مجید میں ہے:
"اور
ایک کشتی ہماری حفاظت میں اور ہمارے حکم سے تیار کر"۔
پس نوحؑ
نے درخت کاٹا اور کشتی بنانا شروع کی۔
طوفانِ نوح:
عائشہ ؓسے
مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اگراللہ تعالیٰ نوح ؑکی قوم میں سے کسی پر
رحم کرتے تو وہ ایک بچے کی ماں ہوتی"
رسول
اللہﷺ نے فرمایا کہ نوحؑ نےاپنی قوم کو ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی یہاں تک کہ
آخری زمانہ میں انہوں نے ایک درخت لگایا جب وہ بڑا ہو گیاتو اسے کاٹاپھر کشتی
بنانا شروع کی جب ان کی قوم کے افرادوہاں سے گزرتے تو پوچھتے کیا کر رہے ہو؟ نوحؑ
جواب دیتے کہ کشتی بنا رہا ہوں۔ تو قوم والے ان کا مذاق اڑاتےاور کہتے کہ خشکی پر
کشتی بنا رہے ہو تو اسے چلاؤ گے کہاں؟تو نوحؑ فرماتے کہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے
گا۔ پھر جب وہ کشتی بنا کر فارغ ہوئے تو تنور سے پانی نکلنے لگااور پانی محلوں اور
گلیوں میں پھرنے لگا تو حبی کی ماں خوفزدہ ہو کر پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی
پہنچ گیاتومزید پہاڑ پر اوپر اپنے بچے کو لے کر چڑھی یہاں تک کہ وہاں بھی پانی
پہنچ گیا اور جب پانی ویاں پہنچا تو اس نے اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا
پس پانی اسے اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ اگر رب العزت اس دن کسی پر رحم فرماتے تو وہ بچے کی ماں پر
فرماتے۔
کشتی نوح کا
رقبہ:
حضرت
سلمان فارسیؓ سے مروی ہے کہ نوحؑ نے چالیس سال تک ساج کے درخت کو لگایاپھر چار سو
سال میں کشتی مکمل کی۔قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ کشتی کی لمبائی تین سو زراع تھی
اورچوڑائی پچاس زراع اور اس کی اونچائی تیس زراع تھی اور کشتی کے چوڑائی والے حصہ
میں دروازے لگائے گئے تھے۔ حارثؓ نے ایک روایت میں کشتی نوح کی لمبائی گیارہ سو
زراع اور چوڑائی چھ سو زراع مذکور ہے۔
حضرت
عیسیٰؑ کاحام بن نوحؑ سے کشتی کے متعلق معلوم کرنا:
عیسیٰؑ کے حواریوں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کسی ایسے
شخص کو زندہ کریں جس نے کشتی نوحؑ کو دیکھا ہو تو ہم اس سے کشتی کے متعلق سوال
کریں۔ پس عیسیٰؑ اپنے متبعین کے ہمراہ چلے
یہا ں تک کہ ایک نشیبی علاقہ میں پہنچ گئے۔وہاں پہنچ کر آپ نے زمین سے مٹی اٹھائی
اور ان سے پوچھا کیا تم جانے ہو کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس
کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
پھر
عیسیٰؑ نے کہا یہ حام بن نوحؑ کی قبر ہے۔ اس کے بعد انہوں نےاس نشیبی جگہ پر
اپناعصا مارااور کہا کہ اللہ کے حکم سے
کھڑا ہو جا۔ یہ کہتے ہی وہ نشیبی علاقہ پھٹااور اس میں سے ایک بوڑھا شخص اپنے سر
سے مٹی جھاڑتے ہوئے اٹھا۔ عیسیٰؑ نے اس سے پوچھا کیاتمہارا انتقال بڑھاپے کی عمر
میں ہو تھا؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میرا انتقال تو جوانی میں ہوا تھا میں نے
یہ گمان کیا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے اس خوف سے میرے بال سفید ہو گئے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ کشتی نوحؑ کا طول
بارہ سوزراع اور عرض چھ سو زراع تھی کشتی کی تین منزلیں تھیں۔ ایک منزل میں جانور
دوسری میں انسان اور تیسری میں پرندے میں تھے۔
کشتی نوح
ؑ کا نظامِ صفائی:
ایک قابل
ذکر بات یہ ہے کہ جب کشتی میں جانوروں کی غلاظت کافی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے نوح
کو حکم دیاکہ وہ ہاتھی کی دم کو ہلائیں پس جب انہوں نے ہاتھی کی دم کو ہلایا تو اس
میں سے سور اور اس کی مادہ چھڑ کر گر پڑے اور انہوں نے تمام غلاظت کو چاٹ کر صاف
کر دیا اور جب چوہوں نے تباہی پھیلائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق شیر کی
دونوں آنکھوں کے درمیان ضرب لگائی تو شیر کے منہ سے بلی اور بلا جھڑ کر باہر نکلے
اور انہوں نے چوہوں کا صفایا کر دیا/
پانی اترنے
کی اطلاع:
کچھ دیر بعد لوگوں نے عیسیٰ ؑ سے سوال کیا کہ
نوحؑ کو کس طرح پتہ چلا کہ تما م شہر غرق کر دئے گئے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ
وہ ایک کوے کو بھیجتے تھے جو کہ خبر لا کر دیتا تھا لیکن ایک دن دیکھا کہ وہ مردار
کا گوشت کھا رہا ہے تو نوحؑ نے کوے کے لئے بد دعا کی یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک گھروں اور انسانوں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر
نوحؑ نے کبوتر کو بھیجا تاکہ وہاں کے شہروں کی خبر دے۔
حام کی قبر میں واپسی:
عیسیٰؑ کے
حواریوں نے حام سے کہا: آپ ہمارے ساتھ چلیں تاکہ ہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر آپ کے
ساتھ باتیں کر سکیں تو اس نے جواب دیا"جس شخص کا رزق دنیا سے ختم کر دیا گیا
ہو وہ کس طرح آپ لوگوں کے ساتھ جاسکتا ہے پھر عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اللہ کے حکم سے
لوٹ جا اور وہ دوبارہ مٹی میں چلا گیا۔



