Tuesday, 17 November 2015

بعثت نوحؑ اورطوفانِ نوحؑ

0 comments
(تاریخ طبری سے منقول)
     نوحؑ کس قو م کی طرف مبعوث کئے گئے؟ اس میں اختلاف ہے۔ بعض  علماء سابقین کا قول ہے کہ جب اولاد آدم فواحش و منکرات، شراب نوشی، شہوت پرستی، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سر کشی کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف نوحؑ کومبعوث کیا۔ان میں سے بعض کا قول ہے کہ یہ بیوراسپ بادشاہ کا زمانہ تھااورنوح کو اسی کے پیروکاروں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ بیوراسپ کا تفصیلی ذکر ایک الگ مضمون میں ہم کریں گے۔ انشاءاللہ۔
قرآنِ حکیم فرقان حمید سے ہمیں پتہ چلتا ہےکہ وہ لوگ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
ترجمہ: "نوحؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میرا کہنا نہیں مانا اور انہوں نے ایسے لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے نقصان میں اضافہ کیااورجنہوں نے میرےخلاف بڑی فریب آزمائش کی باتیں کیں اور جنہوں نےانکی پیروی کرنے والوں سےکہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگزنہ چھوڑنااور نہ ہی ان کو رسوا کرنااور ود'سواع اور یغوث کونہ چھوڑنااور نہ یعوق اور نہ نسر کو چھوڑنا اور یہ واقعہ یہ ہے کہ ان ذی اقتدارلوگوں نے بہتوں کوگمراہ کیا"
بعثت کے وقت نوحؑ کی عمر:
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف نوحؑ کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں اور ان احکامات کی پیروی کاحکم دیں جو آدم،شیث اور اخنوح (ادریسؑ) کے صحیفوں میں نازل ہوئے تھے۔ جس وقت نوحؑ کو نبوت سے نوازا گیاتھا اس وقت ان کی عمر پچاس برس تھی۔
عون بن ابی شذاز کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ نبوت عطا ہونے کے وقت ان کی عمر ساڑھے تین سو برس تھی اور ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اور عذابِ الٰہی کے بعد ساڑھے تین سو برس زندہ رہے۔
نوحؑ کا اپنی قوم کے لئے بددعا:
ابو جعفر سے مروی ہے کہ نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اعلانیہ اور پوشیدہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلایا،لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی یہاں تک کہ تین سو برس بیت گئے چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو نوحؑ نے اپنی قوم کے لئے بد دعاکی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نوح کو درخت لگانےاور چالیس سال بعد انہیں کاٹنے اور اس سے کشتی بنانے کا کہا۔ قرآنِ مجید میں ہے:
"اور ایک کشتی ہماری حفاظت میں اور ہمارے حکم سے تیار کر"۔
پس نوحؑ نے درخت کاٹا اور کشتی بنانا شروع کی۔
طوفانِ نوح:
عائشہ ؓسے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اگراللہ تعالیٰ نوح ؑکی قوم میں سے کسی پر رحم کرتے تو وہ ایک بچے کی ماں ہوتی"
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ نوحؑ نےاپنی قوم کو ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی یہاں تک کہ آخری زمانہ میں انہوں نے ایک درخت لگایا جب وہ بڑا ہو گیاتو اسے کاٹاپھر کشتی بنانا شروع کی جب ان کی قوم کے افرادوہاں سے گزرتے تو پوچھتے کیا کر رہے ہو؟ نوحؑ جواب دیتے کہ کشتی بنا رہا ہوں۔ تو قوم والے ان کا مذاق اڑاتےاور کہتے کہ خشکی پر کشتی بنا رہے ہو تو اسے چلاؤ گے کہاں؟تو نوحؑ فرماتے کہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔ پھر جب وہ کشتی بنا کر فارغ ہوئے تو تنور سے پانی نکلنے لگااور پانی محلوں اور گلیوں میں پھرنے لگا تو حبی کی ماں خوفزدہ ہو کر پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی پہنچ گیاتومزید پہاڑ پر اوپر اپنے بچے کو لے کر چڑھی یہاں تک کہ وہاں بھی پانی پہنچ گیا اور جب پانی ویاں پہنچا تو اس نے اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا پس پانی اسے اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ اگر رب العزت اس  دن کسی پر رحم فرماتے تو وہ بچے کی ماں پر فرماتے۔
کشتی نوح کا رقبہ:
حضرت سلمان فارسیؓ سے مروی ہے کہ نوحؑ نے چالیس سال تک ساج کے درخت کو لگایاپھر چار سو سال میں کشتی مکمل کی۔قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ کشتی کی لمبائی تین سو زراع تھی اورچوڑائی پچاس زراع اور اس کی اونچائی تیس زراع تھی اور کشتی کے چوڑائی والے حصہ میں دروازے لگائے گئے تھے۔ حارثؓ نے ایک روایت میں کشتی نوح کی لمبائی گیارہ سو زراع اور چوڑائی چھ سو زراع مذکور ہے۔
حضرت عیسیٰؑ     کاحام بن نوحؑ سے کشتی کے متعلق معلوم کرنا:
عیسیٰؑ  کے حواریوں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کسی ایسے شخص کو زندہ کریں جس نے کشتی نوحؑ کو دیکھا ہو تو ہم اس سے کشتی کے متعلق سوال کریں۔ پس عیسیٰؑ  اپنے متبعین کے ہمراہ چلے یہا ں تک کہ ایک نشیبی علاقہ میں پہنچ گئے۔وہاں پہنچ کر آپ نے زمین سے مٹی اٹھائی اور ان سے پوچھا کیا تم جانے ہو کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
پھر عیسیٰؑ نے کہا یہ حام بن نوحؑ کی قبر ہے۔ اس کے بعد انہوں نےاس نشیبی جگہ پر اپناعصا مارااور کہا کہ اللہ کے حکم  سے کھڑا ہو جا۔ یہ کہتے ہی وہ نشیبی علاقہ پھٹااور اس میں سے ایک بوڑھا شخص اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے اٹھا۔ عیسیٰؑ نے اس سے پوچھا کیاتمہارا انتقال بڑھاپے کی عمر میں ہو تھا؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میرا انتقال تو جوانی میں ہوا تھا میں نے یہ گمان کیا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے اس خوف سے میرے بال سفید ہو گئے۔
 بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ کشتی نوحؑ کا طول بارہ سوزراع اور عرض چھ سو زراع تھی کشتی کی تین منزلیں تھیں۔ ایک منزل میں جانور دوسری میں انسان اور تیسری میں پرندے میں تھے۔
کشتی نوح ؑ کا نظامِ صفائی:
ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب کشتی میں جانوروں کی غلاظت کافی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے نوح کو حکم دیاکہ وہ ہاتھی کی دم کو ہلائیں پس جب انہوں نے ہاتھی کی دم کو ہلایا تو اس میں سے سور اور اس کی مادہ چھڑ کر گر پڑے اور انہوں نے تمام غلاظت کو چاٹ کر صاف کر دیا اور جب چوہوں نے تباہی پھیلائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق شیر کی دونوں آنکھوں کے درمیان ضرب لگائی تو شیر کے منہ سے بلی اور بلا جھڑ کر باہر نکلے اور انہوں نے چوہوں کا صفایا کر دیا/
پانی اترنے کی اطلاع:
 کچھ دیر بعد لوگوں نے عیسیٰ ؑ سے سوال کیا کہ نوحؑ کو کس طرح پتہ چلا کہ تما م شہر غرق کر دئے گئے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک کوے کو بھیجتے تھے جو کہ خبر لا کر دیتا تھا لیکن ایک دن دیکھا کہ وہ مردار کا گوشت کھا رہا ہے تو نوحؑ نے کوے کے لئے بد دعا کی یہی وجہ ہے کہ وہ آج  تک گھروں اور انسانوں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر نوحؑ نے کبوتر کو بھیجا تاکہ وہاں کے شہروں کی خبر دے۔
حام کی قبر میں واپسی:

عیسیٰؑ کے حواریوں نے حام سے کہا: آپ ہمارے ساتھ چلیں تاکہ ہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر آپ کے ساتھ باتیں کر سکیں تو اس نے جواب دیا"جس شخص کا رزق دنیا سے ختم کر دیا گیا ہو وہ کس طرح آپ لوگوں کے ساتھ جاسکتا ہے پھر عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اللہ کے حکم سے لوٹ جا اور وہ دوبارہ مٹی میں چلا گیا۔

Tuesday, 27 October 2015

روئے زمین کی تقسیم اور تاریخ کی ابتداء

1 comments

محمد بن صالح اور شعبی سے مروی ہے کہ جس وقت آدمؑ کو جنت سے زمین پر اتارا اور زمین میں ان کی نسل ایک بڑی تعداد میں پھیل چکی تو ان کے بیٹوں نے تاریخ
 کی ابتدا ء نزول آدمؑ سے کی۔ اور یہ تاریخ کا سلسلہ نوحؑ کی بعثت تک رہا پھر اس کے بعد نوح سے تاریخ لکھنے کا سلسلہ جاری ہوا۔ یہاں تک کہ (طوفانِ نوح) سے زمین پر ہرچیز تباہ و برباد کردی گئی۔پھر نوحؑ اور ان کے پیروکار کشتی سے اترے تو نوحؑ نے اپنے بیٹوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ سام کو زمین کا وسطی حصہ دیا گیا جس میں بیت المقدس، نیل، فرات،دجلہ،سیحون، جیحون،وفیشون کے علاقے تھےیہ تمام علاقے فیشون سے نیل کے مشرقی جانب اور جنوبی ہواؤں کےچلنے کی جگہ سے لےکر شمالی ہواؤں کے چلنے کی جگہ تک محیط ہے۔  حام کو مغربی کنارے سے شام کی ہواؤں کے چلنے کی جگہ عطا کی گئی۔ یافث کو فیشون سے لے کر صبح کی ہواؤں کے چلنے کی جگہ تک کا علاقہ عطا کیا گیا۔
یہ سلسلہ تاریخ طوفانِ نوح ؑ سے شروع ہوکر حضرت ابرہیمؑ کو آگ میں ڈالنے تک چلتارہا۔
اس کے بعد تاریخ کا سلسلہ حضرت ابرہیمؑ کے آگ میں ڈالے جانے  سے شروع ہو کر یوسف ؑ تک چلا۔
 پھر یوسفؑ کی بعثت سے موسیٰ کی بعثت تک چلا۔
موسیٰؑ کی بعثت سے یہ سلسلہ سلیمانؑ کی بعثت تک چلا۔
سلیمانؑ کی بعثت سے عیسیٰؑ بن مریم کی بعثت تک
عیسیٰؑ کی بعثت سے حضورِاکرم ﷺ تک چلتا رہا۔

غرض ہر نبی کے دور میں تاریخ کا نئے سرے سے اجرا ہوا۔ یہ تمام تواریخ یہود استعمال کرتے تھے۔ جب کہ مسلمان نبی کریمﷺ کی ہجرت سے تاریخ شمار کرتے ہیں۔ صرف قریش اسلام سے قبل واقعہ فیل سے تاریخ شمار کرتے تھے۔ باقی تمام عرب کے لوگ مذکورہ انبیاء ہی کی تاریخ استعمال کرتے تھے ۔ مثلاٗ رجب کے دن سے تاریخ شمار کرنااور کلاب اول و ثانی سےتاریخ شمار کرنا وغیرہ۔ نصرانی ذوالقرنین بادشاہ کے زمانے سے تاریخ شمار کرتے تھے۔ اہلِ فارس  اپنے بادشاہوں کے زمانہ سے تاریخ شمار کرتے تھے۔ موجودہ دور میں دو طریق تاریخ تقریباٌ پوری دنیا میں رائج ہیں۔ (ا) عیسوی کیلنڈر جو کہ پیدائش عیسیٰؑ سے شمار کیا جاتا ہے۔(2) ہجری کیلنڈر جو کہ ہجرت ابوالقاسم ِ محمد بن عبداللہ خاتم الانبیاﷺ سے شمار کیا جاتا ہے۔

Monday, 26 October 2015

مدتِ دنیا

1 comments

دیگر اقوام کے خیالات(تاریخ طبری سے ماخوذ)
یہود:
یہود نے دعویٰ کیا تھا کہ آدم ؑ سے لے کر ہجرت نبویﷺ تک کل مدت دنیا جو ان کے نزدیک ثابت اور موجودہ نسخہ تورات کے موافق ہے وہ چار ہزار چھ سو بیالیس سال ہے اور یہود اسی کے موافق ایک ایک آدمی کی ولادت اور ایک ایک نبی کی بعثت اور ان کی وفات کا تذکرہ کرتے ہیں۔
نصاریٰ:
اس کے برعکس یونان کے نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ یہود اپنے مذکورہ قول اور دعویٰ میں بالکل جھوٹے ہیں۔ بلکہ تخلیق آدم سے ہجرت نبویﷺ تک کل مدت دنیا کے بارے میں صیح قول جو تورات کے موافق ہے وہ پانچ ہزار نو سو بانوے سال ہےاور نصاریٰ اسی کے موافق ہر نبی اور بادشاہ کا زمانہ اور ولادت و وفات وغیرہ کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔ ان یہود نے حضرت عیسیٰؑ کا زمانہ نبوت اور نصاریٰ کی تاریخ جو ولادت عیسیٰؑ سے شروع ہوتی ہے۔ اس کو کالعدم کر کے مذکورہ بالا قول اختیار کیا ہے۔حالانکہ حضرت عیسیٰ کے حالات ، صفات اور بعثت کا وقت وغیرہ سب کچھ تورات میں لکھاہوا ہے۔لہٰذا ان کا انکار کرنا کذب و خیانت کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس شخصیت کے حالات و صفات اور ولادت  و بعثت تورات میں مذکور ہیں جن کو نصاریٰ حضرت عیسٰیؑ قرار دیتے ہیں یہود کے نظریے کے موافق وہ ابھی تک آئے ہی نہیں اور وہ ان نکی ولادت و بعثت کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ طبری فرماتے ہیں کہ یہود جس شخص کا انتظار کر رہے ہیں اور بزعم خویش دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی صفات تورات میں مذکور ہیں وہ درحقیقت دجال لعین ہےجس کی صفات نبی کریمﷺ نے اس امت کے لئے بیان فرمائیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کے اکثر متبعین یہود ہوں گے پس ۔
مجوس:
مجوس کا کہنا ہے کہ جیومرت بادشاہ سے لے کر ہجرت نبویﷺ تک کل مدت تیس ہزار ایک سو انتالیس سال ہے لیکن وہ اس بادشاہ کا کوئی نسب نامہ ذکر نہیں کرتے کہ جس سے اس کے ماقبل پر روشنی پڑے بلکہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جیومرت ہی ابوالبشر آدمؑ ہیں۔
اہل فارس:
علامہ طبری فرماتے ہیں کہ "اہل تاریخ کے جیومرت نامی بادشاہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: (ا) بعض تواسی کے قائل ہیں جو کہ مجوس نے کہا ۔ (2) بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں حام بن یافث بن نوحؑ ہیں ۔ انہوں نے حضرت نوحؑ کی بہت خدمت گزاری کی اور تا دمِ آخر ان کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کو سعادت سمجھا سو حضرت نوحؑ نے ان کے لئے طویل حیات، روئے زمین کی بادشاہت ، دشمنوں کے خلاف آسمانی مدد کی دعا فرمائی اور یہ بھی کہ ان کی اولاد میں یہ سلسلہ دائمی طور پر جاری رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی، اور جیومرت کو روئے زمین کی بادشاہت ملی اور بادشاہت ملنے کے بعد ان کو آدم کہا جانے لگا۔ اور یہ ہی ابوالفرس (یعنی اہل فارس کے جدامجد) ہیں۔ ان کی اولاد میں بھی نسل در نسل یہ بادشاہت چلی۔ یہاں تک کہ مسلمان شاہ فارس کے شہروں میں داخل ہوئے اور اہل اسلام کو ان پرغلبہ حاصل ہوا تو حکومت و بادشاہت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ 

Sunday, 25 October 2015

اولین تخلیقات

0 comments

تخلیق اولین:
تاریخ طبری میں منقول ہے کہ  حضرت عبادہ بن صامت‌ؓ‍‏ نے اپنے فرزند ولید کو کہا اے میرے عزیز بیٹے میں نے رسول اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ قلم ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے (بعد پیدائش کے )اسے حکم فرمایا کہ لکھو، تو اس نے قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ ڈالے۔
ابنِ عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم ہے اور پھر اسے تمام امور لکھنے کا حکم فرمایا۔ اس بارے میں مختلف علمائے سلف کے اقوال ذیل میں پیش کئے گئے ہیں۔
ابن عباس کا قول حدیث رسول اللہﷺ کے موافق ہے۔ ان سے مروی ہے سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم تھااس سے فرمایا کہ لکھو قلم نے کہا اے میرے رب کیا لکھوں؟ فرمایا تقدیر لکھو! پس قلم نے لکھنا شروع کیااور اس نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی تمام چیزیں لکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نےپانی کے بخارات اوپر کی طرف بلند کئے اور اس سے آسمانوں کی تخلیق فرمائی۔ پس حضرت وکیع،شعبہ،معمر،اور عطابن سائب کے طریق میں بھی اسی طرح مروی ہے کہ اولین مخلوق قلم ہے۔
لیکن ابن اسحاق کا قول ہے کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ نور اور ظلمت ہے۔ سو وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور اور ظلمت کو پیدا فرمایا اور ان کے درمیان امتیاز کیا۔ پھر ظلمت سے سیاہ اندھیری رات بنائی اور نور سے روشن و چمکداردن بنایا۔
علامہ طبری ؒ کی نزدیک ابن عباس کا قول درست ہےکیونکہ وہ حدیث کہ عین موافق ہے۔
تخلیق ثانی:
قلم پیداکرنے اور اسے تقدیر لکھنےکاامر فرمانے کے بعداللہ تعالیٰ نے باریک بادل کو پیدا فرمایا اور یہ وہی غمام ہے جس کہ بارے میں کتاب محکم میں حق تعالیٰ شانہ نے فرمایاہے
"یہ منکیرین ومشرکین نہیں انتظار کررہے مگر اس چیزکاکہ اللہ ان کہ پاس بادلوں کے سائبان میں بیٹھ کر آئے"(سورۃالبقرہ آیت نمبر 210)
بادل کی تخلیق عرش سے پہلے ہوئی تھی۔حدیث رسول اللہ ﷺ میں اس طرح وارد ہے ۔ حضرت عمران بن حصین  سے مروی ہے کہ ایک قوم رسواللہﷺ کے پاس آئی پس وہ قریب پہنچے تو آپ انہیں بشارت دینا شروع ہو گئے۔لیکن وہ کہنے لگے ہمیں کچھ مال عطا کیجئے۔ نبیﷺ کویہ بات ناگوار گزری پھر وہ لوگ چلے گئے۔ اس کے بعد ایک اور قوم آئی۔ یہ لوگ جب مجلس میں پہنچے تو کہنے لگے کہ ہم رسولﷺ پر سلام بھیجتے اور دیں میں تفقہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کائنات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم بشارت و خوشخبری کو قبول کرواس لئے کہ جو لوگ ابھی یہاں سے چلے گئے انہوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا۔وہ لوگ کہنے لگے ہم نے قبول کیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موجود تھے اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی اس کا عرش پانی پر تھااور ہر چیز کا ذکر اس کے واقع ہونے سے پہلے لکھ دیا گیا تھا۔پھر اس نے زمین اور آسمان کو پیدا فرمایا۔راوی حدیث کہتے ہیں کہ اتنے میں کوئی آدمی آیا اور اسنے مجھے کہا کہ تمہاری اونٹنی کہیں چلی گئی پس میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا۔لیکن میرے اور اس کے درمیان سراب حائل ہو گیا۔ کاش میں اس کی تلاش میں نہ نکلتا تو مجلس کی بقیہ باتیں سن لیتا۔