Tuesday, 27 October 2015

روئے زمین کی تقسیم اور تاریخ کی ابتداء

1 comments

محمد بن صالح اور شعبی سے مروی ہے کہ جس وقت آدمؑ کو جنت سے زمین پر اتارا اور زمین میں ان کی نسل ایک بڑی تعداد میں پھیل چکی تو ان کے بیٹوں نے تاریخ
 کی ابتدا ء نزول آدمؑ سے کی۔ اور یہ تاریخ کا سلسلہ نوحؑ کی بعثت تک رہا پھر اس کے بعد نوح سے تاریخ لکھنے کا سلسلہ جاری ہوا۔ یہاں تک کہ (طوفانِ نوح) سے زمین پر ہرچیز تباہ و برباد کردی گئی۔پھر نوحؑ اور ان کے پیروکار کشتی سے اترے تو نوحؑ نے اپنے بیٹوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ سام کو زمین کا وسطی حصہ دیا گیا جس میں بیت المقدس، نیل، فرات،دجلہ،سیحون، جیحون،وفیشون کے علاقے تھےیہ تمام علاقے فیشون سے نیل کے مشرقی جانب اور جنوبی ہواؤں کےچلنے کی جگہ سے لےکر شمالی ہواؤں کے چلنے کی جگہ تک محیط ہے۔  حام کو مغربی کنارے سے شام کی ہواؤں کے چلنے کی جگہ عطا کی گئی۔ یافث کو فیشون سے لے کر صبح کی ہواؤں کے چلنے کی جگہ تک کا علاقہ عطا کیا گیا۔
یہ سلسلہ تاریخ طوفانِ نوح ؑ سے شروع ہوکر حضرت ابرہیمؑ کو آگ میں ڈالنے تک چلتارہا۔
اس کے بعد تاریخ کا سلسلہ حضرت ابرہیمؑ کے آگ میں ڈالے جانے  سے شروع ہو کر یوسف ؑ تک چلا۔
 پھر یوسفؑ کی بعثت سے موسیٰ کی بعثت تک چلا۔
موسیٰؑ کی بعثت سے یہ سلسلہ سلیمانؑ کی بعثت تک چلا۔
سلیمانؑ کی بعثت سے عیسیٰؑ بن مریم کی بعثت تک
عیسیٰؑ کی بعثت سے حضورِاکرم ﷺ تک چلتا رہا۔

غرض ہر نبی کے دور میں تاریخ کا نئے سرے سے اجرا ہوا۔ یہ تمام تواریخ یہود استعمال کرتے تھے۔ جب کہ مسلمان نبی کریمﷺ کی ہجرت سے تاریخ شمار کرتے ہیں۔ صرف قریش اسلام سے قبل واقعہ فیل سے تاریخ شمار کرتے تھے۔ باقی تمام عرب کے لوگ مذکورہ انبیاء ہی کی تاریخ استعمال کرتے تھے ۔ مثلاٗ رجب کے دن سے تاریخ شمار کرنااور کلاب اول و ثانی سےتاریخ شمار کرنا وغیرہ۔ نصرانی ذوالقرنین بادشاہ کے زمانے سے تاریخ شمار کرتے تھے۔ اہلِ فارس  اپنے بادشاہوں کے زمانہ سے تاریخ شمار کرتے تھے۔ موجودہ دور میں دو طریق تاریخ تقریباٌ پوری دنیا میں رائج ہیں۔ (ا) عیسوی کیلنڈر جو کہ پیدائش عیسیٰؑ سے شمار کیا جاتا ہے۔(2) ہجری کیلنڈر جو کہ ہجرت ابوالقاسم ِ محمد بن عبداللہ خاتم الانبیاﷺ سے شمار کیا جاتا ہے۔

Monday, 26 October 2015

مدتِ دنیا

1 comments

دیگر اقوام کے خیالات(تاریخ طبری سے ماخوذ)
یہود:
یہود نے دعویٰ کیا تھا کہ آدم ؑ سے لے کر ہجرت نبویﷺ تک کل مدت دنیا جو ان کے نزدیک ثابت اور موجودہ نسخہ تورات کے موافق ہے وہ چار ہزار چھ سو بیالیس سال ہے اور یہود اسی کے موافق ایک ایک آدمی کی ولادت اور ایک ایک نبی کی بعثت اور ان کی وفات کا تذکرہ کرتے ہیں۔
نصاریٰ:
اس کے برعکس یونان کے نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ یہود اپنے مذکورہ قول اور دعویٰ میں بالکل جھوٹے ہیں۔ بلکہ تخلیق آدم سے ہجرت نبویﷺ تک کل مدت دنیا کے بارے میں صیح قول جو تورات کے موافق ہے وہ پانچ ہزار نو سو بانوے سال ہےاور نصاریٰ اسی کے موافق ہر نبی اور بادشاہ کا زمانہ اور ولادت و وفات وغیرہ کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔ ان یہود نے حضرت عیسیٰؑ کا زمانہ نبوت اور نصاریٰ کی تاریخ جو ولادت عیسیٰؑ سے شروع ہوتی ہے۔ اس کو کالعدم کر کے مذکورہ بالا قول اختیار کیا ہے۔حالانکہ حضرت عیسیٰ کے حالات ، صفات اور بعثت کا وقت وغیرہ سب کچھ تورات میں لکھاہوا ہے۔لہٰذا ان کا انکار کرنا کذب و خیانت کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس شخصیت کے حالات و صفات اور ولادت  و بعثت تورات میں مذکور ہیں جن کو نصاریٰ حضرت عیسٰیؑ قرار دیتے ہیں یہود کے نظریے کے موافق وہ ابھی تک آئے ہی نہیں اور وہ ان نکی ولادت و بعثت کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ طبری فرماتے ہیں کہ یہود جس شخص کا انتظار کر رہے ہیں اور بزعم خویش دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی صفات تورات میں مذکور ہیں وہ درحقیقت دجال لعین ہےجس کی صفات نبی کریمﷺ نے اس امت کے لئے بیان فرمائیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کے اکثر متبعین یہود ہوں گے پس ۔
مجوس:
مجوس کا کہنا ہے کہ جیومرت بادشاہ سے لے کر ہجرت نبویﷺ تک کل مدت تیس ہزار ایک سو انتالیس سال ہے لیکن وہ اس بادشاہ کا کوئی نسب نامہ ذکر نہیں کرتے کہ جس سے اس کے ماقبل پر روشنی پڑے بلکہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جیومرت ہی ابوالبشر آدمؑ ہیں۔
اہل فارس:
علامہ طبری فرماتے ہیں کہ "اہل تاریخ کے جیومرت نامی بادشاہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: (ا) بعض تواسی کے قائل ہیں جو کہ مجوس نے کہا ۔ (2) بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں حام بن یافث بن نوحؑ ہیں ۔ انہوں نے حضرت نوحؑ کی بہت خدمت گزاری کی اور تا دمِ آخر ان کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کو سعادت سمجھا سو حضرت نوحؑ نے ان کے لئے طویل حیات، روئے زمین کی بادشاہت ، دشمنوں کے خلاف آسمانی مدد کی دعا فرمائی اور یہ بھی کہ ان کی اولاد میں یہ سلسلہ دائمی طور پر جاری رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی، اور جیومرت کو روئے زمین کی بادشاہت ملی اور بادشاہت ملنے کے بعد ان کو آدم کہا جانے لگا۔ اور یہ ہی ابوالفرس (یعنی اہل فارس کے جدامجد) ہیں۔ ان کی اولاد میں بھی نسل در نسل یہ بادشاہت چلی۔ یہاں تک کہ مسلمان شاہ فارس کے شہروں میں داخل ہوئے اور اہل اسلام کو ان پرغلبہ حاصل ہوا تو حکومت و بادشاہت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ 

Sunday, 25 October 2015

اولین تخلیقات

0 comments

تخلیق اولین:
تاریخ طبری میں منقول ہے کہ  حضرت عبادہ بن صامت‌ؓ‍‏ نے اپنے فرزند ولید کو کہا اے میرے عزیز بیٹے میں نے رسول اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ قلم ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے (بعد پیدائش کے )اسے حکم فرمایا کہ لکھو، تو اس نے قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ ڈالے۔
ابنِ عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم ہے اور پھر اسے تمام امور لکھنے کا حکم فرمایا۔ اس بارے میں مختلف علمائے سلف کے اقوال ذیل میں پیش کئے گئے ہیں۔
ابن عباس کا قول حدیث رسول اللہﷺ کے موافق ہے۔ ان سے مروی ہے سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم تھااس سے فرمایا کہ لکھو قلم نے کہا اے میرے رب کیا لکھوں؟ فرمایا تقدیر لکھو! پس قلم نے لکھنا شروع کیااور اس نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی تمام چیزیں لکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نےپانی کے بخارات اوپر کی طرف بلند کئے اور اس سے آسمانوں کی تخلیق فرمائی۔ پس حضرت وکیع،شعبہ،معمر،اور عطابن سائب کے طریق میں بھی اسی طرح مروی ہے کہ اولین مخلوق قلم ہے۔
لیکن ابن اسحاق کا قول ہے کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ نور اور ظلمت ہے۔ سو وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور اور ظلمت کو پیدا فرمایا اور ان کے درمیان امتیاز کیا۔ پھر ظلمت سے سیاہ اندھیری رات بنائی اور نور سے روشن و چمکداردن بنایا۔
علامہ طبری ؒ کی نزدیک ابن عباس کا قول درست ہےکیونکہ وہ حدیث کہ عین موافق ہے۔
تخلیق ثانی:
قلم پیداکرنے اور اسے تقدیر لکھنےکاامر فرمانے کے بعداللہ تعالیٰ نے باریک بادل کو پیدا فرمایا اور یہ وہی غمام ہے جس کہ بارے میں کتاب محکم میں حق تعالیٰ شانہ نے فرمایاہے
"یہ منکیرین ومشرکین نہیں انتظار کررہے مگر اس چیزکاکہ اللہ ان کہ پاس بادلوں کے سائبان میں بیٹھ کر آئے"(سورۃالبقرہ آیت نمبر 210)
بادل کی تخلیق عرش سے پہلے ہوئی تھی۔حدیث رسول اللہ ﷺ میں اس طرح وارد ہے ۔ حضرت عمران بن حصین  سے مروی ہے کہ ایک قوم رسواللہﷺ کے پاس آئی پس وہ قریب پہنچے تو آپ انہیں بشارت دینا شروع ہو گئے۔لیکن وہ کہنے لگے ہمیں کچھ مال عطا کیجئے۔ نبیﷺ کویہ بات ناگوار گزری پھر وہ لوگ چلے گئے۔ اس کے بعد ایک اور قوم آئی۔ یہ لوگ جب مجلس میں پہنچے تو کہنے لگے کہ ہم رسولﷺ پر سلام بھیجتے اور دیں میں تفقہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کائنات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم بشارت و خوشخبری کو قبول کرواس لئے کہ جو لوگ ابھی یہاں سے چلے گئے انہوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا۔وہ لوگ کہنے لگے ہم نے قبول کیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موجود تھے اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی اس کا عرش پانی پر تھااور ہر چیز کا ذکر اس کے واقع ہونے سے پہلے لکھ دیا گیا تھا۔پھر اس نے زمین اور آسمان کو پیدا فرمایا۔راوی حدیث کہتے ہیں کہ اتنے میں کوئی آدمی آیا اور اسنے مجھے کہا کہ تمہاری اونٹنی کہیں چلی گئی پس میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا۔لیکن میرے اور اس کے درمیان سراب حائل ہو گیا۔ کاش میں اس کی تلاش میں نہ نکلتا تو مجلس کی بقیہ باتیں سن لیتا۔