تاریخ طبری میں
منقول ہے کہ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے
اپنے فرزند ولید کو کہا اے میرے عزیز بیٹے میں نے رسول اللہ ﷺ سے
سنا، وہ فرماتے تھے کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ قلم ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے (بعد پیدائش کے )اسے حکم فرمایا کہ لکھو، تو اس نے قیامت تک
ہونے والے تمام امور لکھ ڈالے۔
ابنِ عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم ہے اور پھر اسے تمام امور لکھنے کا حکم فرمایا۔ اس بارے میں مختلف علمائے سلف کے اقوال ذیل میں پیش کئے گئے ہیں۔
ابن عباس کا قول حدیث رسول اللہﷺ کے موافق ہے۔ ان سے مروی ہے سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم تھااس سے فرمایا کہ لکھو قلم نے کہا اے میرے رب کیا لکھوں؟ فرمایا تقدیر لکھو! پس قلم نے لکھنا شروع کیااور اس نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی تمام چیزیں لکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نےپانی کے بخارات اوپر کی طرف بلند کئے اور اس سے آسمانوں کی تخلیق فرمائی۔ پس حضرت وکیع،شعبہ،معمر،اور عطابن سائب کے طریق میں بھی اسی طرح مروی ہے کہ اولین مخلوق قلم ہے۔
ابنِ عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم ہے اور پھر اسے تمام امور لکھنے کا حکم فرمایا۔ اس بارے میں مختلف علمائے سلف کے اقوال ذیل میں پیش کئے گئے ہیں۔
ابن عباس کا قول حدیث رسول اللہﷺ کے موافق ہے۔ ان سے مروی ہے سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ وہ قلم تھااس سے فرمایا کہ لکھو قلم نے کہا اے میرے رب کیا لکھوں؟ فرمایا تقدیر لکھو! پس قلم نے لکھنا شروع کیااور اس نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی تمام چیزیں لکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نےپانی کے بخارات اوپر کی طرف بلند کئے اور اس سے آسمانوں کی تخلیق فرمائی۔ پس حضرت وکیع،شعبہ،معمر،اور عطابن سائب کے طریق میں بھی اسی طرح مروی ہے کہ اولین مخلوق قلم ہے۔
لیکن ابن اسحاق
کا قول ہے کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ نور اور ظلمت ہے۔
سو وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور اور ظلمت کو پیدا فرمایا اور
ان کے درمیان امتیاز کیا۔ پھر ظلمت سے سیاہ اندھیری رات بنائی اور نور سے روشن و
چمکداردن بنایا۔
علامہ طبری ؒ کی
نزدیک ابن عباس کا قول درست ہےکیونکہ وہ حدیث کہ عین موافق ہے۔
تخلیق ثانی:
قلم پیداکرنے
اور اسے تقدیر لکھنےکاامر فرمانے کے بعداللہ تعالیٰ نے باریک بادل کو پیدا فرمایا
اور یہ وہی غمام ہے جس کہ بارے میں کتاب محکم میں حق تعالیٰ شانہ نے فرمایاہے
"یہ
منکیرین ومشرکین نہیں انتظار کررہے مگر اس چیزکاکہ اللہ ان کہ پاس بادلوں کے
سائبان میں بیٹھ کر آئے"(سورۃالبقرہ
آیت نمبر 210)
بادل کی تخلیق
عرش سے پہلے ہوئی تھی۔حدیث رسول اللہ ﷺ میں اس طرح وارد ہے ۔ حضرت عمران بن حصین
سے مروی ہے کہ ایک قوم رسواللہﷺ کے پاس آئی پس وہ قریب پہنچے تو آپ انہیں بشارت
دینا شروع ہو گئے۔لیکن وہ کہنے لگے ہمیں کچھ مال عطا کیجئے۔ نبیﷺ کویہ بات ناگوار
گزری پھر وہ لوگ چلے گئے۔ اس کے بعد ایک اور قوم آئی۔ یہ لوگ جب مجلس میں پہنچے تو
کہنے لگے کہ ہم رسولﷺ پر سلام بھیجتے اور دیں میں تفقہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور
اس کائنات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم بشارت و خوشخبری کو
قبول کرواس لئے کہ جو لوگ ابھی یہاں سے چلے گئے انہوں نے اس بات کو قبول نہیں
کیا۔وہ لوگ کہنے لگے ہم نے قبول کیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موجود
تھے اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی اس کا عرش پانی پر تھااور ہر چیز کا ذکر اس کے واقع
ہونے سے پہلے لکھ دیا گیا تھا۔پھر اس نے زمین اور آسمان کو پیدا فرمایا۔راوی حدیث
کہتے ہیں کہ اتنے میں کوئی آدمی آیا اور اسنے مجھے کہا کہ تمہاری اونٹنی کہیں چلی
گئی پس میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا۔لیکن میرے اور اس کے درمیان سراب حائل ہو
گیا۔ کاش میں اس کی تلاش میں نہ نکلتا تو مجلس کی بقیہ باتیں سن لیتا۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔